• جو قوم اپنی خصوصیات اور روایات کو بھلا کر غیروں کی نقالی کرتی ہے وہ صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے۔ مسلمان دنیا کی امامت و قیادت کے لیے پیدا ہوئے تھےمگر یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ جو قوم انسانیت کی قیادت پر مامور کی گئی تھی، وہ خود ترغیبات نفس  کے جال میں پھنس کر اپنی مایہ ناز روایات بھلا بیٹھی  اور مغربی تہذیب کی نقالی میں ڈوب گئی۔ نتیجہ ظاہر کہ آج مسلمان دنیا کی تگ و دو میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور ہر جگہ اپنے زوال کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔ زیرِ نظر کتاب ارکان اسلام و ایمان میں دین قیم کا خلاصہ آسان اسلوب میں بیان کرتی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی سچی بندگی کی دعوت دی ہے اور کفر، شرک اور بدعت کی ہلاتکوں اور نئی تہذیب کی قباحتوں سے خبردار کردیا گیا ہے۔ اس کتاب میں دین کی تما م بنیادی تعلیمات عام فہم اسلوب میں قلم بندد کر کے مسلمان کو دعوت عمل دی گئی ہے اور واضح کیاگیا ہے کہ دین کی تفہیم ،ایمان کی مضبوطی اور حسن عمل کے بغیر  ہماری کامیابی  کا کوئی امکان نہیں۔ یہ کتاب خوب بھی پڑھیے اور اپنے عزیز و اقارب اور دوست احباب کو بھی پڑھنے کی دعوت دیجیے۔

  • ہمارے ہادی و مرشد، سید المرسلین حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:  `اللہ تعالیٰ کے نناوے، ایک کم سو نام ہیں، جو بھی ان کی حفاطت کرے گا جنت میں داخل ہوگا۔ وہ وتر یعنی طاق ہے اور وتر ہی کو پسند کرتا ہے` اللہ کے خوبصورت ناموں کو بہترین انداز میں پیش کرنے والی نایاب کتاب۔

  •  نبی ﷺ پر درود و سلام ` اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس کا انکار یا استخفاف کفر ہے اور اس کا اہتمام رسول اللہ ﷺ سے محبت اور والہانہ تعلق و وابستگی کا ذریعہ بھی ہے اور اس کی علامت اور دلیل بھی۔ لیکن وہ درود و سلام کون سا ہے اور اس کا طریقہ کیا ہے جس کا حکم مسلمانوں کو دیا گیا ہے اور جو محبت رسول ﷺ کا ذریعہ بھی ہے اور اس کی علامت بھی؟ زیرِ نظر کتاب اسی موضوع پر منفرد اور نہایت اہم کتاب ہے جو شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؒ کی کتاب کا اردو ترجمہ ہے۔ اس میں صلوٰۃ و سلام کے تقریباً ہر موضوع پر تفصیلی، مدلل اور واضح گفتگو ہے۔ جیسا کہ امام ابن القیم ؒ کا اسلوب ہے جو اہلِ علم میں معروف ہے۔
  • ستغفار دل کی سلامتی اور صفائی کا ذریعہ ہے۔کیونکہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’ان العبد اذا أخطا خطیئة نکتت فی قلبه نکتة سوداء ،فان هو نزع واستغفر وتاب،صقل قلبه ‘‘(رواہ الترمذی)’’جب انسان گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے،اگر انسان اس گناہ کو چھوڑ دے اور اس پر توبہ واستغفار کرے تو اس کے دل کودھو کر چمکا دیا جاتا ہے۔‘‘ حضرت شداد بن اوس روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص یقین کامل کے ساتھ صبح کی نماز کے بعد سید الاستغفار پڑھے گا ،اگر اسی دن شام سے پہلے پہلے مر گیا تو سیدھا جنت میں جائے گا،اسی طرح جو شخص یقین کامل کے ساتھ مغرب کی نماز کے بعد سید الاستغفار پڑھے گا ،اگر اسی رات صبح سے پہلے پہلے مر گیا تو سیدھا جنت میں جائے گا۔سید الاستغفار یہ ہے: `اللھم أنت ربی لااله الا أنت،خلقتنی وأنا عبدک ،وأنا علی عهدك ووعدک مااستطعت،أعوذبک من شر ما صنعت ، أبوء لک بنعمتک علی وأبوء بذنبی ،فاغفرلی فانہ لا یغفر الذنوب الا أنت [رواہ مسلم] ’’اے اللہ تو ہی میرا رب ہے ، تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں،تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوںجس قدرطاقت رکھتا ہوں،میں نے جو کچھ کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں،اپنے آپ پر تیری نعمت کا اقرار کرتا ہوںاور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں،پس مجھے بخش دے کیونکہ تیرے علاوہ کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا۔‘‘ زير تبصره كتاب ’’ استغفار وتعوذ فضائل وثمرات ‘‘ اشاعت کتب کے انٹرنیشنل ادارے ، دار السلام کے سکالر زکی مرتب شدہ ہے ۔ اس کتاب کے پہلے حصے میں میں انہوں نےاستغفار کی اہمیت وضرورت، استغفار کی قرآنی ونبوی دعائیں ، استغفار کے مستحب اوقات ومواقع ،استغفار کے فوائد وثمرات کو بیان کیا ہے اور دوسرے حصے میں تعوذ کی ضرروت واہمیت ، قرآنی تعوذ تعوذ کےمستحب اوقات کو قرآن واحادیث کی روشنی میں آسان فہم انداز میں پیش کیا ہے
  •   آج کل بنیادی حقوق کا بڑا چرچا ہے اور شور ہے اور یہ شور زیادہ تر مغرب کے مادر پدر آزادمعاشرے کے فرزندوں کی طرف سے مچایا جا رہا ہے جو انسان اور حیوان کے درمیان فرق کرنے کے روادار ہیں نہ انھیں مرد اور عورت کے درمیان فطری امتیازات نظر آتے ہیں۔ اسی لیے وہ حیوانوں والے حقوق انسانوں کے لیے تسلیم کرانا اور مردوں کے فرائض عورتوں کو بھی تفویض کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ یہ دونوں باتیں فطرت کے خلاف ہیں اور فطرت کے خلاف جنگ کرنے سے دنیا میں کبھی امن اور سکون نہیں ہو سکتا اور بعض لوگ وہ ہیں جو کسی کے بھی بنیادی حقوق کے قائل نہیں۔ ان کے نزدیک حقوق ہیں تو طاقت وروں کے ، کمزوروں کے کوئی حقوق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے  لوگ اقتدار و اختیار سے بہر ہ ور ہو کر عوام پر ہر قسم کا جبر و ظلم کرنا جائز سمجھتے ہیں۔ فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین ؒ نے اس کتابچے میں افراط و تفریط سے دامن بچاتے ہوئے اسلام کی اعتدال پر مبنی تعلیمات کی روشنی میں انسانوں کے وہ بنیادی حقوق واضح کیے ہیں جو دین متین نے تسلیم اور بیان کیے ہیں جن سے مرد اور عورت کے درمیان امتیاز قائم رہتا ہے جو فطرت کے عین مطابق ہے اور انسان اور حیوان کے درمیان فرق بھی قائم رہتا ہے۔ اور یہی وہ نقطہ اعتدال ہے جو امن وسکوں کا ضامن ہے۔
  •    اگر آپ ایک خوب سیرت مسلمان بننا چاہتے ہیں تو اس کتاب کا مطالعہ توجہ سے فرمایئے کہ اس میں احادیث کی روشنی میں اسلامی آداب و احکام کو اس خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے کہ ایک ایمان کا حامل دل فوراً اُن آداب کو اپنا کر اپنی شخصیت کو سنوارتا ہے اور دنیا اور آخرت کی کامیابی کا اُمیدوار بن جاتا ہے۔
  • Atlas Of Quran

    ₨ 5,950
    This Atlas is new in its subject, a subject that has not been touched before. It helps whoever recites the Qur`Gn or studies it to specify the locations mentioned by the Noble Verses, and to mark those places of ancient people mentioned in the Qur`Gn. This is besides locating areas where the incidents of the prophetic Seerah occurred. Eventually the diligent reader will easily recognize those places, learn about them, and take heed of them while reciting. Eventually the diligent reader will easily recognize those places, learn about them, and take heed of them while reciting. The Atlas has also revealed obscure places we used to pass through inattentively, like the site where Nuh`s Ark settled, the site of the curved Sand-hills {Al Ahqah}, the cave of the young faithful men, the houses of median, the site of Sodom and other places determined by the Atlas depending on reliable sources. Thus the Atlas eliminates all the guessing and the fantasies we used to encounter when reciting the Noble Quran, and takes us to the specific place.
  •  انسانی وجود کے دو حصّے ہیں۔۔۔ ایک روحانی، دوسرا مادی۔ مادیت پسندی کے اس دور میں انسان کے اس وجود پر بہت کام ہوا ہے مگر دوسرے اور اہم تر وجود پر جو کچھ لکھا اور کہا گیا ہے اس کی وقعت نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ضمن میں انسانی عقل کی رہنما۔۔۔۔ وحی۔۔۔ سے روشنی حاصل نہیں کی گئی۔ `انسان اپنی صفات کے آئینے میں` اس غلط روش کا خوب صورت ازالہ ہے۔۔۔ مصنف نے وحی االہٰی کی روشنی میں انسان کی مثبت اور منفی، تمام صفات کا خوب صورت تجزیہ کیا ہے اور انسان کو وہ آئینہ دکھایا ہے جس میں وہ اپنی سچی اور اصل تصویر دیکھ سکتا ہے۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ ان عوامل کی نشان دہی بھی کی گئی ہے جن سے انسان اپنی تصویر کی بد نمائی کو دور کر سکتا ہے۔۔ ان پہلوؤں نے اس کتاب کی افادیت میں اس قدر اضافہ کر دیا ہے کہ اس کا مطالعہ ہر سچے انسان کی ضرورت بن گئی ہے۔

  •    یہ کتاب عالمگیر سچائیوں کا سبق دیتی ہے، اس کا موضوع یہ ہے کہ انسان شعور و آگہی کی زندگی بسر کرے۔ اپنے مقدس پروردگار کو پہچانے۔ رسالت مآب حضرت محمد ﷺ کے منصب و منزلت کی معرفت حاصل کرے۔ آپ ﷺ کے فکر و عمل کی پیروی کرے۔ آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو ذہنی ارتقا کا ذریعہ اور عملی زندگی کا مرکز و محور بنائے۔ دن حنیف کی تعلیمات سے پوری طرح با خبر رہے۔ اور صبر و استقامت کی راہ پر گامزن رہے۔ یہ کتاب ایک دوست کی پکار، ایک داعی کی صدا اور ایک مجاہد کی آواز ہے جو زمانے اور زندگی کے ہر مرحلے پر صراطِ مستقیم دکھاتی ہے اور قران و سنت کی روشنی میں حسن عمل کی تعلیم دیتی ہے۔ عمل کا ارادہ کیجیے اور اس کتاب کا ایک ایک حرف احترام اور التزام سے پڑھیے۔ ان شا ء اللہ آپ کے عقائد و نظریات میں حقیقی نور پیدا ہوگا اور روشن روشن کرنیں جگمگا اُٹھیں گی۔ آپ حسن نیت اور اچھے کام کرنے کے خوگر بنیں گے۔ یوں آپ اس دنیا میں سر خرو اور آخرت میں سرفراز رہیں گے۔
  •  پیش نظر کتاب دورہ تفسیر کے علمی نکات اور افادات پر مبنی خزینہ معلومات ہے جسے مدارس کے نصاب، فہم قران کورسز کی بنیادی ضرورت اور دورہ تفسیر کی روایت کے عین مطابق مرتب کی گیا ہے۔ یہ اپنے   اسلوب کے لحاظ سے بہت اہم اور مفید علمی کاوش ہے جو طالبان قران کے لیے قرانی موضوعات اور اصول تفسیر کے لوازم کے تحت تحریر کی گئی ہے۔ اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اس میں اصول تفسیر کے مشکل مراحل کو سوال و جواب کے اسلوب میں آسان اور زود و فہم بنا دیا گیا ہے۔
  •   آج ساری دنیا جس بے قراری سے امن و سلامتی کا راستہ ڈھونڈ رہی ہے، اس سے کوئی بے خبر نہیں۔ ملاال یہ ہے کہ جو افکار و اعمال انسان کے لیے ذلت اور ہلاکت کا سبب ہیں، آج کا ترقی یافتہ انسان انھی موہوم اور مسموم افکار و اعمال میں اپنے زخموں کا مرہم ٹٹول رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ انسان کے دکھوں میں آئے دن ہولناک اور ہلاکت بار اضافہ ہو رہا ہے۔ اس عالم گیر المیے کی اصل وجہ کیا ہے؟ یہ بھید جاننے کے لیے زیرِ نظر کتاب پڑھیے۔  اس کتاب کے مصنف فضیلتہ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز ؒ عہد حاضر کے سب سے بڑے سکالر تھے، ان کی بین نگاہوں نے انسان کے آلام و مصائب کے اصل سبب کا کھوج لگایا اور صاف صاف بتا دیا کہ جب تک انسان اپنے من گھڑت افکار و عقائد کی دلدل میں پھنسا رہے گا امن و سلامتی کا راستہ کبھی نا پا سکے گا۔ امن و سلامتی اور فلاح و کامیابی کا واحد طریقہ یہ ہے کہ جس قادر مطلق نے یہ دنیا بنائی ہے ہم اُسی کی بتائی ہوئی صراط مستقیم پر چل پڑیں۔ صراطِ مستقیم کیا ہے؟ یہ کتاب اسی سوال کا بڑا مستند ، منور، مفصل اور مدلل جواب ہے۔ اسے مرکز توجہات بنائیے۔ خود بھی پڑھیے اور عزیز و اقارب کو بھی پڑھنے کی دعوت دیجیے۔
  • خانقاہی نظام سے مراد تصوف ہے۔تصوف کا لفظ اس طریقۂ کار یا اسلوب اس عمل کے لیے اختیار کیا جاتا ہے جس پر کوئی صوفی عمل پیرا ہو۔ اسلام سے قربت رکھنے والے صوفی، لفظ تصوف کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ : تصوف کو قرآنی اصطلاح میں تزکیۂ نفس اور حدیث کی اصطلاح میں احسان کہتے ہیں۔ تصوف کی اس مذکوہ بالا تعریف بیان کرنے والے افراد تصوف کو قرآن و سنت کے عین مطابق قرار دیتے ہیں۔ اور ابتدائی ایام میں متعدد فقہی علماء کرام بھی یہی مراد مراد لیتے رہے۔ پھر بعد میں تصوف میں ایسے افکار ظاہر ہونا شروع ہوئے کہ جن پر شریعت و فقہ پر قائم علماء نے نہ صرف یہ کہ ناپسندیدگی کا اظہار کیا بلکہ ان کا رد بھی کیا۔امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم اوران کےبعد جید علمائے امت نے اپنی پوری قوت کے ساتھ غیراسلامی تصوف کےخلاف علم جہاد بلند کیا اورمسلمانوں کواس کےمفاسد سے آگاہ کر کے اپنا فرضِ منصبی انجام دیا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نےبھی اپنے اردو فارسی کلام میں جگہ جگہ غیر اسلامی تصوف کی مذمت کی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام اور خانقاہی نظام ایک تحقیقی وتاریخی جائزہ ‘‘ محترم جناب پروفیسر ڈاکٹر امان اللہ بھٹی کی تصنیف لطیف ہے اس کتاب میں انہوں نے تصوف اور خانقاہی نظام کی تعریف، تاریخ اور تصوف کےمختلف سلسلوں اور ان کےطریق کار کی مفصل اور چشم کشا دستاویز پیش کی ہیں۔نیز عہد بہ عہد صحابۂ کرام کے نام دے کر بتایا گیا ہے کہ انہوں نےکتنے کٹھن حالات میں دنیا کےدور دراز گوشوں میں پہنچ کر توحید کی اذان دی اور لوگوں تک اللہ کا دین پہنچایا۔ ان کی دعوت سیدھی سادی تھی۔ وہ غیر اللہ کی نفی کرتے تھے۔ دلوں میں اللہ کی یکتائی ،بڑائی کبریائی اور زیبائی کانقش جماتے تھے ، رسول اللہﷺ کی زندگی کے مبارک طریقے سکھاتے تھے ۔اس کتاب کے مطالعے سے یہ حقیقت بڑی نمایاں ہوجاتی ہے کہ اسلام جیسے جامع دین کے مقابلے میں تصوف اور خانقاہیت ایک ژولیدہ فلسفہ ہے ۔ فاضل مصنف نےخانقاہی نظام کا بڑا مفصل اور مدلل جائزہ پیش کیا ہے۔ انھوں نےاکابر علماء اور نامور صوفی بزرگوں ہی کےاقوال سے تصوف کی تعریف بیان کی ہے اور مختلف آراء کے اقتباسات درج کیے ہیں ۔ تصوف کے مختلف سلسلوں اور منازلِ سلوک کی بہت سی شاخوں کےتعارف کے علاوہ ان کےطریق عمل پر روشنی ڈالی ہے۔ فاضل مصنف نےحوالہ جات پیش کر کے بتایا ہے کہ تصوف کےنظریات کہاں کہاں پہنچ کر اسلامی تعلیمات سےبے آہنگ ہوگئے اورشرک کی آبیاری کاموجب بنے۔پھر اس کے نتیجے میں کیسے کیسے فاسد عقائد کے کانٹے اگتے اورپھیلتے چلے گئے
  •   `اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں؟` ان خوش نصیب انسانوں کے تجربات و تاثرات اور قلبی واردات کا خوبصورت مرقّع ہے جنہوں نے عیسائیت، یہودیت یا ہندو مت کے باطل عقائد و افکار کو تج کر اسلام کے باعثِ تسکینِ جاں اور بہارِ قلب و نظر کے حامل سرمدی سائے میں پناہ لی۔ ان نو مسلموں کے اپنے سابق مذاہب کے حوالے سے اعتراضات اور اسلام کے بارے میں سرور انگیز والہانہ جذبات حقیقتاً ایمان افروز اور ایقان پرور ہیں جن سے اس دین حنیف کی ازلی و ابدی سچائی روزِ روشن کی طرح نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔ یہ بے مثال کتاب ہر مسلمان بلکہ ہر انسان کے پڑھنے کی چیز ہے، بلخصوص وعظ و تبلیغ کے فریضے کی ادائیگی میں مصروف لوگوں کے لیے سوغات ہے۔ اسے خود پڑھ کر اسلام پر اپنا ایمان و یقین تازہ کیجیے اور دوسروں کو پڑھائیے کہ اسلام، قران اور پیغمبر اسلام ﷺ سے  نومسلموں کی وابستگی کا تقابلی مطالعہ دل و نگاہ کو رفعت و صلابت اور کشادگی عطا کرتا ہے۔

  • تقسیم وراثیت سے متعلقہ اسلام کی تعلیمات نہایت عادلانہ اور منصفانہ ہیں۔ تاکہ مرحومین کے پسماندگان کی مامون و محفوظ اور پر امن دنیوی زندگی کا اہتمام ہو سکے۔ لیکن نہ معلوم کس وجہ سے بہت سے علماے کرام اور اہل علم حضرات بھی تقسیم وراثت کے حوالے سے دینی احکامات سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’اسلامی قانون وراثت‘ جہاں علمائے کرام کے لیے استفادے کا باعث بنے گی وہیں طلبا اور عامۃ المسلمین بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ فاضل مصنف ابونعمان بشیر نے وراثت کے مبادیات، موانع، ترکہ کے متعلق امور، مستحقین اور ان کے حصص، عصبات، حجب سے لےکر تقسیم ترکہ، تخارج، خنثیٰ، حمل سمیت تمام موضوعات نہایت جامعیت کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔ یوں سوالاً جواباً انداز میں لکھی گئی یہ کتاب طلبہ کے لیے بالخصوص مفید ثابت ہوگی، اسے مدارس کے نصاب میں شامل کیا جائے تو یہ ابتدائی کلاسوں کے لیے آسان جدید اسلوب میں نہایت مفید اضافہ ثابت ہوگی

  •   جو قوم اپنی روایات اور خصوصیات کو بھلا کر غیروں کی نقالی کرتی ہے وہ صفحہ ء ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹ جاتی ہے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں نے یہی مہلک طریقہ اختیار کرلیا، دو اڑھائی سو برس پہلے  یورپ کے صنعتی انقلاب کے بطن سے جو مادی تہذیب پیدا ہوئی، اس میں مذہب سے شدید بغاوت بھی کار فرما تھی۔ اس تہذیب نے اللہ تعالیٰ سے اہل یورپ کا رشتہ منقطع کردیا۔ یہی چمکیلی بھڑکیلی تہذیب جب انگریزوں ، فرانسیسیوں اور ولندیزیوں کی معرفت مشرقی ملکوں میں پہنچی تو مسلمانوں کے بالائی طبقات نے اسے گلے لگا لیا۔ یہ تاریکی بڑھتی اور پھیلتی چلی گئی اور ہم اپنی مایہ ناز روایات کو یکے بعد دیگرے فراموش کرتے چلے گئے۔ آج جسدِ ملت کے زخموں سے جو خون ٹپک رہا ہے وہ اسی مادر پدر آزاد مغربی تہذیب کی نقالی اور اپنی معظم روایات سے دستبرداری کا نتیجہ ہے۔ اب مسلمانوں کی بقا اور فلاح کا یک ہی طریقہ ہے کہ وہ مغربی تہذیب کی طنابیں توڑ دیں اور اسلامی تعلیمات کے دامن رحمت میں لوٹ آئیں۔ عالم اسلام کے نامور عالم دین فضیلتہ الشیخ محمد بن صالح العثیمین ؒ نے `اسلام کے بنیادی عقائد` کے زیر عنوان یہ گرانقدر کتاب لکھ کر وہ تعلیمات و مبادیات اجاگر کردیے ہیں جن پر عمل کر کے ہم اپنی گم شدہ عظمت دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کتاب کا سنجیدگی سے مطالعہ کیجیے۔ یہ کتاب قران و سنت کی تعلیمات کا عطر ہے۔

  • یہ مختصر سی کتاب شیخ محمد بن سلیمان رحمہ اللہ کی عربی کتاب``الأصول الثلاثۃ وأدلتہا`` کا اردو سلیس ترجمہ ہے –شیخ موصوف نے کتاب کی تین ابواب میں تقسیم کرتے ہوئے اسلام کے تمام اساسی اصولوں کی بڑی سادہ اور دلنشین تشریح کی ہے- ان اصولوں کے ذیلی عنوانات میں اللہ تعالی کی معرفت، اسلام، ایمان اور احسان کے مراتب، مراحل اور مدارج وضاحت سے بتائے گئے ہیں اور آخر میں حضرت محمد مصطفی ﷺکی صفات، جہات، حیثیات اور تعلیمات بیان کی گئی ہیں- دین اسلام کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے یہ ننھی سی کتاب بڑی بڑی ضخیم کتابوں پر بھاری ہے-

  • بچوں کا ذہن سفید کاغذ کی طرح ہوتا ہے۔ اس پر جو لکھیں فوراً  نقش ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچپن میں یاد کی ہوئی باتیں بڑھاپے تک محفوظ رہتی ہیں۔ عربی کا مقولہ ہے کہ کمسنی کی یاد کی ہوئی بات پتھر پر لکیر کی مانند ہوتی ہے۔ اس لیے بچوں کی یہ عمر انتہائی قیمتی ہے۔ اس سے بھرپور فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ اسلامی عقائد، عبادات، اخلاقیات اور آداب و معاملات سے انھیں آگاہ کریں تا کہ بچپن ہی میں یہ تعلیمات ان کے قلوب و اذہان میں راسخ ہو جائیں اور وہ بڑے ہو کر سکہ بند مسلمان بنیں جو تاریخ کا دھارا بدل دیں۔ یقیناً اس کے لیے ایسے لٹریچر کی ضرورت ہے جو بچوں کی ذہنی سطح کو ملحوظ رکھ کر عام فہم اسلوب میں تیار کیا گیا ہو۔ ارکان اسلام اس ضرورت کی تکمیل کی سعی جمیل ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ بچوں کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانے کے ساتھ سچا اور باکردار مسلمان بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

  • صحابئہ کرامؓ کی زندگی اوران کی سوانح ميں ہمارےليےروشن مثاليں ہيں۔وہ چمکتےدمکتےستارےہيں جنہوں نےبراہ راست اللہ کےرسولﷺکےرخ انوارکی زيارت کاثرف حاصل کيا۔اںہوں ںےاللہ کےرسولﷺکی مجالست وصحبت کےمزےاٹھاۓ اور براہ راست آپ سےفيوض وبرکات حاصل کيں۔ان کا تزکيہ نفس کا ئنات کےامامﷺنے بنفس نفيس فرمايا۔ان کی زندگی ہمارےليےمشعل راہ ہے۔ہرصحابي کی زندگی بہت خوبصورباعث اقتداءاورروشن مثال ہے۔ان تاريخ سازمقدس شخصيات کی علمی اخلاقی،فقہی اورعسکری بصيرت سےآگہی کانورحاصل کرنےکےليےيہ انسائیکلوپیڈیا دارالسلام کےقارئین خدمت ميں پيش کياجارہاہے۔ہماری خواہش ہےکہ اس نورکوزندگی کی گزرگاہوں کےان تاريک  گوشوں تک پھيلادياجاۓجہاں اجالےکی اشدضرورت ہے۔
  • اسلام عفت  و عصمت اور پاکیزگی قلب و نگاہ کا دین ہے۔ اسلام زمانہ جاہلیت کی غیر انسانی طفل کشی کی رسم کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ اسلام ہی دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے عورتوں کو ان کے اصل مقام و مرتبے سے ہمکنار کیا۔ اس کی عزت و آبرو کے لیے جامع قوانین متعین کیے، عورت کو وراثت میں حقدار ٹھہرایا، اس کے عائلی نظام کو مضبوط کیا۔ اسلام سے پہلے دنیا نے جس قدر ترقی کی تھی، صرف ایک صنف واحد(مرد) کی اخلاقی اور دماغی قوتوں کا کرشمہ تھی۔ مصر، بابل، ایران، یونان اور ہندوستان مختلف تہذیب و تمدن کے چمن آراء تھے لیکن اس میں صنف نازک(عورت) کی آبیاری کا کچھ دخل نہ تھا۔ عورت کو دنیا میں جس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے وہ ہر ممالک میں مختلف رہی ہے، مشرق میں عورت مرد کے دامن تقدس کا داغ ہے، اہل یونان اس کو شیطان کہتے ہیں، تورات اس کو لعنت ابدی کا مستحق قرار دیتی ہے، کلیسا اس کو باغ انسانیت کا کانٹا تصور کرتا ہے لیکن اسلام کا نقطہ نظر ان سب سے جدا گانہ ہے۔ اسلام میں عورت نسیم اخلاق کی نکہت اور چہرہ انسانیت کا غازہ سمجھی جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’بہنوں کے لیے تحفہ‘‘محترمہ امل بنت عبداللہ کی تصنیف کرداہے اور اس کا عربی نام ’’ھدیتی الیک ‘‘ہے اور اس کا اردو ترجمہ   نعیم احمد بلوچ نے کیا ہے جس میں انہوں نے ایک عورت  کی معاشرتی اور گھریلو ذمہ داریوں کو بیان کیا ہے۔اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ فاضل مصنفہ اور فاضل  مترجم نعیم احمد صاحب کو اس کار خیر پر اجرے عظیم سے نوازے۔آمین

  • پيغمبررحمت اللہ تعالی نےانسان کوعقل و شعور سے نوازا ہے۔عقل کو اگر شتر بے مہار کی طرح آزاد چھوڑ ديا جائے اوراسے خاص حدود وضوابط کا پابندنہ بنايا جا ئے تو وہ فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بنتی ہے۔اسی ليے    نے بنی نوع انسان کی رہنمائی کے ليےانبياء ورسل کا سلسہ جاری فرمايا۔ہرعہداورہرعلاقےميں انبياٰءآتےاورفريضہ تبليغ ودعوت اداکرتےرہے تاآنکہ وحی ورسالت کا زريں سلسلہ نبی عربی محمدرسولﷺپرختم کرديا۔اب قيامت تک آنےوالےانسانوں کےليےآپ ہی اللہ کی طرف سے ہادی و رہنما ہيں۔آپ ہی کی بتلائ ہوئ تعليمات وہدايات انسانيت کی نجات اور ابدی سعادت وخوش بختی کا واحد ذريعہ ہيں۔ان سےاعراض وگريزکرتےہوۓ محض اپنی عقل پر انحصارکرکےانسانيت قعرمزلت ميں توگرسکتی ہےليکن امن  وسکون،عافيت وراحت اورابدی نجات سے ہم کنارنہيں ہوسکتی

  • پُراَسرارحقائق تکلیف یادکھ سے دو چارانسان کی کبھی کبھی کوئی راستہ نہیں ملتا، کوئی علاج اس کی سمجھ میں نہیں آتا۔ مشورہ دینے والے اسے جادو، آسیب اورنظربد کا نام دیتے ہیں۔ پریشانی کے عالم میں وہ معاشرے میں ناسور کی طرح پھیلے ہوئے شعبدہ بازوں، بازی گروں اورنام نہادعاملوں کی چوکھٹ پہ اپنی مشکل کا حل ڈھونڈنے کے لیے جاپہنچتا ہے۔ جس کی جیب اجازت نہ دے، وہ بازار میں بکنے والےتعویذوں، مجربات اورپراسرارعلوم پرمبنی کتب میں اوٹ پٹانگ عملیات،  مجرب نسخے اور نقیش آدمی کو سراسرگمراہی کی طرف لے جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کا ایمان بھی خطرے میں پڑجاتاہے۔ شایدہمیں یاد نہیں رہا کہ اسلام دین فطرت ہے۔ اس نے زندگی کے ہرمعاملے میں ہماری رہنمائی کی ہے۔ جنات اور جادو کے حوالے سے قرآن کریم اور احادیث مباکہ میں ہمارے لیے مکمل رہنمائی موجود ہے۔، بات صرف رجوع کرنے کی ہے۔ `پراسرارحقائق` قرآن و حدیث میں بتائے گئے طریق علاج پر مبنی ہے۔ بازاروں میں بکنے والی گمراہ کن کتب سے بچنے اور قرآن و حدیث کی روشنی میں صحیح علاج لے لیے یہ کتاب ازحدمفید ہے۔

  • `تقوتہ الایمان` کا موضوع توحید ہے، جو دین کی بنیاد ہے۔ اس موضوع پر بے شمار کتابیں اور رسالے لکھے جا چکے ہیں۔ شاہ اسمعیل شہید کا اندازِ بحث اور طرزِ استدلال سب سے نرالا اور سراسر مصلحانہ ہے۔ علمائے حق کی طرح اُنہوں نے صرف کتاب و سنت کو مدار بنایا۔ آیات و احادیث کے ذریعے وہ نہایت سادہ اور سلیس انداز میں انکی تشریح فرما دیتے ہیں اور توحید کے مخالف جتنی بھی غیر شرعی رسمیں معاشرے میں مروج تھیں، ان کی اصل حقیقت دل نشیں انداز میں آشکار کر دیتے ہیں۔ شاہ اسمعیل شہید نے عقیدہ و عمل کی اُن تمام خوفناک غلطیوں کو جو اسلام کی تعلیمِ توحید کے خلاف تھیں، مختلف عنوانات کے تحت جمع کردیا ہے، مثلاً  شرک فی العلم، شرک فی التصرف، شرک فی العادت اور شرک فی العبادات۔ یوں تقویہ الایمان توحید کے موضوع پر ایک جامع اور یگانہ کتاب بن گئی۔ اگرچہ یہ کتاب نہایت اہم موضوع پر ہے لیکن شاہ اسمعیل شہید نے طریق استدلال ایسا اختیار کیا کہ معمولی پڑھا لکھا آدمی اور متجحر عالم دین بھی اس سے یکسان مستفید ہو سکتے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔
  •  خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی دعوتِ توحید نے ایک دوسرے کے دشمن عرب قبائل کو متحد کر کے ساری دنیا کا امام بنا دیا تھا۔ پھر صدیوں کی گردشوں کے بعد ایسا زوال آیاکہ مسلمان دنیا طلب اور راحت کو ش بن گئے۔ قران و سنت کی صراطِ مستقیم سے دور جا پڑے۔ تاریخ کے جبر کا شکار ہوگئے ۔ شرک و بدعت کی خندق میں گر گئے۔ ان کی ملی وحدت پارہ پارہ ہوگئی ارو وہ وحدہ لا شریک کی بجائے قبروں اور آستانوں کو پوجنے لگے۔ رحمت پروردگار پھر جوش میں آئی۔ باروہیں صدی ہجری میں سرزمین عرب ہی میں رسول اللہ ﷺ کا ایک ایسا فدائی پیدا ہوا جس نے اپنے ایمان و یقین ، سوز باطن اور عمل پیہم سے قبروں اور آستانوں پر جھکی ہوئی پیشانیوں کو اٹھایا اور توحید ربانی کا درس دے کر ان کی مردہ رگوں میں زندگی کی نئی روح پھونک دی۔ توحید کے اس فدائی، رسول اللہ ﷺ کے شیدائی اور دین قیم کے اس سپاہی کو دنیا امام محمد بن عبدالوہاب کے نام نامی سے جانتی ہے۔ یہ کتاب اسی جلیل القدر ہستی کے سوزِ باطن، فکر و نظر اور دعوت و تبلیغ کی سر گزشت ہے۔ امام موصوف کی دعوتِ توحید کو قبول عامہ نصیب ہوا تو سامراجی طاقتیں اور ان کے پٹھو علمائے سو چراغ پا ہوگئے اور انھوں نے اس دعوت حق کو بدنام کرنے کے لیے اسے `تحریکِ وہابیت` کہنا شروع کردیا۔ فاضل مصنف نے مستند تاریخی حوالوںاور محکم دلائل و براہین سے اس تہمت کا پول کھول دیا ہے اور یہ حقیقت اجا گر کردی ہے کہ امام محمد بن عبدالوہاب کی تحریک کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ امت مسلمہ شرک و بدعت سے کٹ کر اور ہر طرف سے ہٹ کر صرف قران و سنت کی طرف پلٹ آئے۔ یہ کتاب توجہ سے پڑھیے۔ آپ کو یوں محسوس ہوگا جیسے تاریخ آپ کے روبرو سانس لے رہی ہے۔
  • مکہ مکرمہ کو روزہ اول سے دینی و مذہبی اعتبار سے مرکزیت حاصل رہی ہے اس لحاظ سے یہ تمام دنیا کے انسانوں  کے لیے بالعموم اور اہل اسلام کے لیے بالخصوص تاریخی کشش رکھتا ہے ۔اس لیے اس شہر مقدس کی  تاریخ حیطہ تحریر میں لانا ازحد ضروری تھا ۔کیونکہ اس میں مسلمانوں کی قلبی تسکین کا سامان تھا۔عربی زبان میں تاریخ مکہ مکرمہ اور دعوت اللہ کے تعمیری مراحل کا بیان کتب تاریخ میں تو ہے ہی البتہ اردو دان طبقہ کے لیے مکہ مکرمہ کی قدیم و جدید تاریخ لکھنا وقت کی اہم ضرورت تھی۔اس عمدہ تاریخی موضوع کو مکتبہ دارالسلام نے بروقت تاڑ کر تاریخ مکہ مکرمہ کے نام سے کتاب مرتب کی جو ظاہری  اور باطنی حسن سے آراستہ ہے ۔اس میں مکہ مکرمہ کی فضیلت و اہمیت ،مکہ کی ابتدائی آبادکاری بیت اللہ کی تعمیر ،تعمیر کعبہ کے مختلف ادوار میں تعمیری مراحل سمیت چاہ زم زم  کی کھدائی ،آب زم زم کی روح زمین کے پانیوں سے فوقیت ،حج کے احکام ،حدود حرم کا بیان اور مکہ مکرمہ کے فلاحی اداروں کا بیان عمدہ اسلوب نگارش سے مرتب کیا گیا ہے ۔کتاب میں انتہائی مفید اور معلومات افزاء ہے   جس کا مطالعہ قارئین کو ماضی و حال  سے روشناس کراتا ہے اور قلوب و اذہان میں مکہ مکرمہ اور کعبۃ اللہ کے بارے میں جو خیالات و احساسات ہیں ان کی خوب روحانی سیرابی کرتا ہے ۔
  •   انسانیت کو ہدایت کی روشنی دینےکےلیے اس دنیامیں بےشمار انبیاء آئےپہلے نبی ہونےکاشرف سیدنا آدم علیہ السلام  کوحاصل ہے او رآخری نبی ہونےکااعزازمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آیا۔انبیاء کی سیرت کامطالعہ کریں تو  یہ بات سمجھ میں آتی ہےکہ اللہ تعالی نےنبوت کی ذمہ داری کےلیے ایسے افراد کو چناجن کی زندگیاں ہر طرح کے عیب سے پاک تھیں۔سچائی ،پرہیزگاری  اور نیکی ان کا وصف تھا۔نبئی مہرباں صلی اللہ علیہ وسلم خاتم المرسلین ہیں ۔آپ کےبعد کوئی نبی نہیں آئے گا یہ اللہ کافیصلہ ہے۔لیکن کچھ لوگ ذاتی مفادات کےلیے ،اپنی دوکانداری چمکانے کے لیے نبوت کے بند کیے ہوئے محل میں نقب لگانےسے باز نہ آئے ۔ان میں سےایک جھوٹا نبی انگریزوں کےہاتھ سے تراشا ہوا مرزا غلام احمد قادیانی ہے ۔اس جھوٹے نبی کی پرورش کس نے کی؟، اس خاردار پودے کی آبیاری کسے نےکی؟،اس کی جھوٹی شخصیت کو نبوت کا لباس کس نے پہنایا ؟،اس گھٹیا تحریرات اور  خیالات کو الہام کیسے بنایا گیا ؟،یہ سب باتیں آپ کے سامنے’’تھالی کا بینگن ‘‘کی شکل میں پیش ہیں اس کتاب میں  جعلی نبوت کے حقائق کو بڑے دلچسپ انداز میں بیان کیا گیاہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ مرزا کی اپنی ہی تحریروں کی مدد سے  اس کی نبوت کے فتنے کو عیاں کیاگیاہے۔
  •   موت وہ اٹل حقیقت ہے جو دنیوی زندگی کے عقائد و اعمال پر جزا و سزا کا نظام مرتب کرتی ہے۔ زندگی کی طرح موت بھی ایک امانت ہے جس میں غیر شرعی امور کو اختیار کر کے ہم اس میں خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ہر مرنے والا مسلمان اس بات کا شرعی حق رکھتاا ہے کہ اس کے پسماندگان اس کی تجہیز و تدفین کے عمل کو سنت کے مطابق ادا کریں۔ انسانی زندگی کا یہی وہ مرحلہ ہے جسے احکام شریعت ےسے بے خبر لوگ رسوم و رواجات اور شرک و بدعات کا مجموعہ بنا دیتے ہیں۔ اس مختصر کتاب میں بیما ر پرسی کے آداب، میت کے غسل کا طریقہ، تکفین کے احکام، جنازے کی نماز کا مسنون طریق اور قبروں کی زیارت کے شرعی اسلوب پر مستند حوالوں سے رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ آج ملت اسلامیہ کا ایک بڑا حصہ ان تعلیمات سے بے خبر مرنے والوں کے غم میں سوگوار ہونے کے باوجود اس طریقہ کار سے بے خبر اور غافل ہے جو اس موقع کا شرعی تقاضا ہے۔ آئیے ہم اس معتبر کتاب کے مطالعہ سے اپنے بچھڑنے والوں کو شرعی آداب کے ساتھ رخصت کرسکیں۔

  •  دین اسلام اصلاً کتاب و سنت کی تعلیمات و فرمودات ہی کا دوسرا نام ہے۔ دین حق کے خلاف فتنے اٹھانے والوں میں سے ایک گروہ نے حدیث کے حجت ہونے ہی کا انکار کر ڈالا۔ جبکہ علماء و ائمہ کرام کے نزدیک مسلّم ہے کہ حدیث کے دامن میں جو استناد اور اسماء الرجال کا عظیم الشان سلسلہ موجود ہے، اس کی مثال دنیا بھر کے مذہبی یا تاریخی لٹریچر میں مفقود ہے۔ حدیث وہی ہے اور اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے اُٹھایا ہے۔ حدیث کے بغیر اکمال دین کا تصور محال ہے، لہٰذا رسول اللہ ﷺ کی سنت کو حجت تسلیم کرنا ایمان کا اولین تقاضا ہے۔ `حجیت حدیث` کا فاضل مصنف مولانا عبدالستار حماد نے انکار حدیث کا فتنہ بے نقاب کرنے میں جو عظیم الشان تحقیقی خدمت انجام دی ہے، وہ منکرین حدیث کی فتنہ انگیزی کے خلاف برہان قاطع کی حیثیت رکتھی ہے۔ اس مختصر اور انتہائی جامع تالیف کا مطالعہ دین حق کےطلبہ و اساتذہ دونوں کے لیے بے حد مفید ثابت ہوگا۔
  • Sale!

    Hisn ul Muslim (Pocket Size, Old Edition)

    Original price was: ₨ 400.Current price is: ₨ 350.
    Hisn-ul-Muslim is brief and comprehensive collection of supplications that Muslims may recite on certain occasions/events. This best selling compilation by Darussalam Publishers has the following in it. • 267 prayers, supplications and invocations for different daily life occasions, events, and times. • Each prayer is written in Arabic script with Urdu translation. • Only texts of Dua with short references to the source. • Portable, easy to understand and memorize content. A compilation by Said bin Ali bin Wahaf Al-Qahtani, Hisn-ul-Muslim is an abridged version of his previous works. Here, he chose to mention only the text of Duas (to be recited/remembered) instead of the entire Hadith. The references list has also been shortened to one or two. In other words, this book provides required spiritual support to Muslim brothers and sisters in performing their daily activities.
  • اسلام کی اشاعت کے لیےعلماء کاکردار بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ جنہوں نے اپنی تحریر و تقریر سے عامۃ الناس میں علمِ دین کو پھیلایا اور علم و عرفان کی  قندیلیں ابھی تک جلا رے ہیں۔ علماء  ہی انبیاء کے وارث ہیں کہ جنہوں نے نبوی مشن سنبھالتے ہوئے شریعت کےعلم کو دوسرےلوگوں تک پہنچانا ہوتاہے۔ شرعی مسائل اور اخلاقی شرعی رہنمائی کے لیے علماء کے قرآن و سنت اور آثار صحابہ سے اخذ کردہ مسائل عامۃ الناس کے لیے انہیں دین کے فہم میں آسانی فراہم کرتے ہیں۔ اور خطبات کے ذریعے عوام الناس کی دینی رہنمائی کرتے ہیں۔ علمائے کرام کے مجموعہ خطبات کےحوالے سے کئی مجموعات شائع ہوچکے ہیں۔ ان میں سے اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی ، خطباتِ محمدی از مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از مولانا محمد داؤد راز، خطاب سلفیہ، خطبات آزاد، خطبا ت بہاولپور ی خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر، خطبات یزدانی، خطبا حرم، مواعظ طارق ،زاد الخطیب، اور فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ کے خطبات وغیرہ، قابلِ ذکر ہیں۔ اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے 12 ضخیم مجلدات پر مشتمل ’’نضرۃ النعیم ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ خطبات حرم ‘‘امام کعبہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس  کے بیت اللہ میں دیے گئے خطبات جمعہ میں سے منتخب خطبات ’’ کوکبۃ الکوکبۃ‘‘کا اردو ترجمہ ہے۔ ان منتخب خطبات کو نہایت خوبصورت سلیس اردو میں پیش کرنےکا اعزاز دار السلام نے حاصل کیا ہے۔ تعمیر سیرت کےلیےان پُر تاثیر خطبات کا مطالعہ ہر فرد وبشر کی ضرورت، مردوں او رعورتوں کے لیے ذریعہ ہدایت اورواعظین واساتذہ کرام کے لیے گنجینہ افادیت ہے۔
  • ہمیں اپنے روشن ماضی میں ہر لحظ نئی آن اور نئی شان کی جو جلوہ گری ملتی ہے اس کا ایک اہم ترین سبب یہ ہے کہ ہماری عظیم ماؤں کی گود میں حسن، حسین، عبداللہ بن عمر، اور عمر بن ابدالعزیز ،عقبہ بن نافع، طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم جیسے بچے پرورش پاتے تھے۔ آج کے دور میں ہماری محترم مائیں بہنیں بھی عزت و عظمت کا وہی درجہ حاصل کر سکتی ہیں جو قرون اولیٰ کی جلیل القدر خواتین کو نصیب ہوا تھا۔ اس کا واحد طریقہ یہ ہے کہ جس طرح اُن عظیم خواتین نے اللہ اور رسول ﷺ کے ارشادات پر عمل کیا تھا اُسی طرح آج کی خواتین بھی عمل کرنے کی کوشش کریں۔ یہ رہ نمائے عمل کتاب رسول اللہ ﷺ کی ایک سو احادیث اور ان کی شاندار تشریحات پر مشتمل ہے۔ اس میں خواتین کی کامیابی کے تمام طریقے بہت آسان اور دلکش پیرائے میں بتا دیے گئے ہیں، اسے پڑھیے، اس پر عمل کیجیے، اور اپنے مستقبل کو درخشاں بنائیے۔

  • محسن انسانیت حضرت محمدﷺ نے خواتین پر عظیم احسان فرمایا۔ انھیں قعر مذلت سے نکال کر گھر کی ملکہ بنایا۔ ماں کی حیثیت سے عورت کو اتنی عظمت بخشی کہ اس کے قدموں تلے جنت کی بشارت دی۔ بہن کی دلجوئی اور قدر شناسی کا سبق دیا اور بیٹی کو شفقت و مرحمت کا مرجع بنا دیا۔ مسلمانوں کے زوال کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انھوں نے عورت کی عظیم اور اس کے حقوق کی پاسبانی کا وہ سبق بھلا دیا جس کی تعلیم اسلام نے التزام کے ساتھ دی ہے۔ یہ کتاب اسی سبق کی یاد دہانی کے لیے شائع کی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی معاشرے میں عورت کا کیا درجہ ہے۔ ایک مسلمان مرد کو کن اوصاف کی عورت سے شادی کرنی چاہیے۔ بیوی سے کتنی نرمی اور نوازش سے رہنا چاہیے۔ خدانخواستہ ناچاقی ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے۔ نکاح، مہر، خلع، طلاق اور عدت کے احکام کیا ہیں۔ حلالہ کتنی گھناؤنی لعنت ہے۔ بیوائیں کیسے حسن سلوک کی مستحق ہیں اور خواتین کو وراثت میں کتنا حصہ ملنا چاہیے۔ فی الجملہ یہ کتاب ایک مسلمان خاتون کے حقوق و فرائض کی مکمل دستاویز ہے۔ معاشرے میں عصمت و طہارت کے تحفظ اور پاکیزگی کا نور پھیلانے کے لیے اسے خود بھی پڑھیے اور اپنے عزیز و اقارب کو بھی اس کے مطالعے کی دعوت دیجیے  ۔

  • Sale!

    Dua Aur Dawa Kai Masnoon Adaab (Jadeed)

    Original price was: ₨ 900.Current price is: ₨ 750.
    This book briefly describes the sunnah way of Islamic medication and masnoon prayers for cure in the light of Quran and Hadith.
  • دعوتِ حق کیا ہے؟ اس کی تفصیلا ت قران مجید کی آیات مقدسہ اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث مبارکہ میں موجود ہیں۔ ان کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کتاب الہٰی کا مرکزی مضمون توحید اور دوعوت دین ہے جسے نبی کریم ﷺ نے اس قدر کاملیت اور جامعیت سے پیش کیا کہ آپ دین حق کے داعئ اعظم ہی کی حیثیت سے ہمارے سامنے آتے ہیں۔ حق یہ ہے کہ دعوت الی اللہ ہی وہ مقدس نصب العین ہے جسے آپ نے امت مسلمہ کے سپرد کیا ہے۔ امت مسلمہ اس دعوت حق کے تقاضوں کو کیسے جان سکتی ہے اور اس کے داعیوں میں وہ معیاری، داعیانہ صفات کیسے پیدا ہو سکتی ہیں؟ اس مختصر سی کتاب کا اصلی موضوع یہی ہے۔ دعوت دین اور داعیان حق کی صفات پر ہمارے اسلاف نے بہت عظیم الشان لٹریچر تیار کیا ہے۔ یہ مختصر او ر جامع کتاب اس پورے لٹریچر کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کے مطالعے سے مقصد زندگی کا شعور اُبھرتا اور اس کے تقاضوں کو بروئے کار لانے کی بصیرت پیدا ہوتی ہے۔

  • آج کے اس پُر فتن دور میں جبکہ نوجوان نسل بتدریج اسلام سے دور ہو رہی ہے، اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو اپنے اسلاف کی سیرت پڑھائیں، نوجوان نسل کو بتائیں کہ ان کے اخلاق و کردار کیسے تھے اور انھوں نے اسلام کے لیے کتنی قربانیاں پیش کیں۔ `رجالِ قران` کے فاضل مؤلف ڈاکٹر عبدالرحمٰن عمیرہ کا اسلوب بیان بڑا عمدہ ہے۔ انھوں نے بلکل کہانی کے انداز مین ان صحابہ کرام کی سیرت اس کتاب میں بیان کی ہے جن کے بارے میں قران کریم میں آیات نازل ہوئی ہیں۔ انھوں نے اس کتاب میں صحابہ کرام ہی نہیں بلکہ ان کفار اور منافقین کے بارے میں بھی پوری تفصیل کے ساتھ لکھا ہے جن کے بارے میں قران نازل ہوا، کتاب میں موجود واقعات تاریخ کی مستند کتابوں سے نقل کیے گئے ہیں۔ ان واقعات اور صحابہ کرام کی مبارک زندگیوں میں ہمارے لیے دروس موجود ہیں۔

  • یہ کتاب زیادہ بڑی نہیں۔ عام لوگوں کے لیے ہے۔عام فہم ہے وہ لوگ جو رمضان میں اپنی زندگی میں انقلاب لانا چاہتے ہیں ؛بلاشبہ رمضان ان کی زندگی کو نئے سرے سے تشکیل دیتا ہے۔یہ ایک روزنامچہ ہے۔رمضان میں ہم ہر روز ایک نئے عزم اور ارادے کے ساتھ یہ تہیہ کرسکتے ہیں کہ ہمیں آج کیا کام کرنا ہے۔ تھوڑی سی محنت ، تھوڑی سی جدوجہد اور عزم و ارادہ آپ کی زندگی بدل سکتا ہے۔
  • Sale!

    Rabbana (Qurani Duayein)

    Original price was: ₨ 350.Current price is: ₨ 200.

     دعا ایک مسلمان اور اُسکے رب کے درمیان گفتگو کا بہترین ذریعہ ہے۔ اللہ نے کود قران پاک میں فرمایا ہے کہ مجھے پکارو میں سنتا ہوں اور جواب دیتا ہوں۔ زیرِ نظر کتاب اُن تمام دعاوں کا مجموعہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں قران مجید یا اللہ کے رسول ﷺ کے ذریعے سے سکھائیں اور جن کے الفاظ رَبَّنا کے خوبصورت لفظوں سے شروع ہوتے ہیں۔ اس کتاب کو پڑھیے اور اپنے رب سے دعا مانگنے کا وہ طریقہ سیکھیئے جو خود رب اور اُسکے رسول ﷺ نے سیکھایا ہے۔

  • Sale!

    Seerat Sayedina Abu Bakr Siddique (R.A) 2 vol set

    Original price was: ₨ 4,999.Current price is: ₨ 4,750.
    نبی کریم ﷺ کے بعد امتِ مسلمہ کے سب سےبڑے قائد اور اسلامی معاشرے کا سب سے عظیم نمونہ اور نمائند ہ شخصیت ابو بکر صدیق ؒ ہی تھے۔ خلافتِ راشدہ کی ابتدائی فتوحات، کامیابیاں اور خوبیاں عہد صدیقی ہی کی رہینِ منت تھیں۔ سیدنا ابو بکر صدیق ؒ ایمان و یقین، اطاعت و غلامی، محبت و وارفتگی اور ہمت و حوصلہ جیسے بے مثل خوبیوں سے مالا مال تھے۔ آیئے، ہم بھی اُنکی سیرت کی مطالعہ کر کے اپنے اعمال کو نکھارنے کا سامان کریں۔ The life of Abu Bakr As Siddique (May Allah be pleased with him) offers a blueprint to successful life to those Muslims as well as non-muslims who are searching for the truth. This book provides detailed and insightful glimpses into the extraordinary life of the first Caliph of the Muslims Abu Bakr As-Siddeeq (May Allah be pleased with him) and his massive contribution to all of humanity. He was a truly a man for all ages. This compilation has specifically been made for the Muslim Youth, who need to learn about the sacred personalities and their success stories. Indeed, this is the best way to teach core values of an ideal Islamic life and help youth understand their religion.
  • Sale!

    Seerat Umar Farooq R.A (2 Vol Set)

    Original price was: ₨ 4,950.Current price is: ₨ 4,499.

    عالم اسلام کے معروف اور مایہ ناز سیرت نگار دکتور علی محمد محمد الصلابی نے زیرِ نظر کتاب میں حضرت عمر فاروق ؒ کی سیرت کو نہایت ہی خوب سیرت پیرائے میں بیان کیا ہے اور ساتھ ہی اُس سنہرے دور کا نقشہ بھی کھینچہ ہے جس میں حضرت عمر نے اسلام کی بہترین خدمت کی۔ We are living in tumultuous times, but they are no less tumultuous than the era of Caliph `Omar Ibn al-Khattab (May Allah be pleased with him), whose life began in Jahiliyah and ended in the Golden Age of Islam. We can learn much from the history of this second caliph of Islam, who was faced with unprecedented challenges but met them successfully within the framework of shari`a and in accordance with the true spirit of Islam. For those who would be leaders, this book offers the model of an ideal Muslim leader, one who felt responsible before Allah for the well-being of all those under his rile, including his troops, women, infants, non-Muslims, and even animals. Caliph Omar was a `hands-on` leader who kept himself informed and consulted scholars and experts before every major decision. For the rest of us, this book offers a window into an exciting and important period of Islamic history, and it also reminds of an important lesson, that our strength comes not from wealth or money or status, but from our submission to Allah and our commitment to the path of Islam.

  • ۔ سیدنا عثمان غنی صرف کاتب وحی ہی نہیں تھے بلکہ قرآن مجید آپ کے سینے میں محفوظ تھا۔ آیات قرآنی کے شان نزول سے خوب واقف تھے ۔ بطور تاجر دیانت و امانت آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ نرم خو تھے اور فکر آخرت ہر دم پیش نظر رکھتے تھے ۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے عثمان کی حیا سے فرشتے بھی شرماتے ہیں ، تبلیغ و اشاعت اسلام کے ليے فراخ دلی سے دولت صرف فرماتے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ اے عثمان اللہ تعالٰی تجھے خلافت کی قمیص پہنائیں گے ، جب منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو اسے مت اتارنا یہاں تک کہ تم مجھے آملو۔ چنانچہ جس روز آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ سے حضور نے عہد لیا تھا ( کہ منافق خلافت کی قمیص اتارنے کی کوشش کریں گے تم نہ اتارنا ) اس ليے میں اس پر قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں ۔ 35ھ میں ذی قعدہ کے پہلے عشرہ میں باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ نے صبر اوراستقامت کا دامن نہیں چھوڑا، محاصرہ کے دوران آپ کا کھانا اور پانی بند کردیاگیا تقریبا چالیس روز بھوکے پیاسے82سالہ مظلوم مدینہ سیدنا عثمان کو جمعة المبارک 18ذو الحجہ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ روزہ کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوے شہید کردیا گیا۔سیدنا عمر فاروق کے بعد امت کی زمامِ اقتدار سنبھالی اور خلیفۂ ثالث مقرر ہوئے ۔ ان کا دورِ حکومت تاریخ اسلام کا ایک تابناک اور روشن باب ہے ۔ ان کے عہد زریں میں عظیم الشان فتوحات کی بدولت اسلامی سلطنت کی حدود اطراف ِ عالم تک پھیل گئیں اور انہوں نے اس دور کی بڑی بڑی حکومتیں روم ، فارس ، مصر کےبیشتر علاقوں میں پرچم اسلام بلند کرتے ہوئے عہد فاروقی کی عظمت وہیبت اور رعب ودبدبے کو برقرار رکھا اور باطل نظاموں کو ختم کر کے ایک مضبوط مستحکم اورعظیم الشان اسلامی مملکت کواستوار کیا ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سیرت عثمان ذوالنورین ‘‘عرب کےمایہ ناز مؤلف ومحقق دکتور علی محمد محمد صلابی کی خلیفۂ ثالث ، داماد رسول ، جامع قرآن ، پیکر حیا، سیدنا عثمان بن عفان کی سیرت پر مستند تصنیف ہے۔دکتور صلابی نے اس کتاب میں عہد عثمانی کےتمام واقعات کومستند حوالوں سے بیان کیا ہے اور ان کےہر پہلو کانہایت احتیاط سےجائزہ لیا ہے۔اس کتاب کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہےکہ اس میں عہد عثمانی کی نہایت اہم معلومات اجاگر کرنے والے 19 نادر نقشے شامل ہیں ۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم اور ناشرین کی اس عمدہ کاوش کو قبول فرمائے اور یہ کتا ب مسلمانوں میں سیدنا عثمان جیسی صفات جلیلہ پیدا کرنے کاباعث بنے
  • امام بخاری ۱۳شوال ۱۹۴ھ؁، بروز جمعہ بخارا میں پیدا ہوئے۔ دس سال کی عمر ہوئی تو مکتب کا رخ کیا۔ بخارا کے کبار محدثین سے استفادہ کیا۔ جن میں امام محمد بن سلام بیکندی، امام عبداللہ بن محمد بن عبداللہ المسندی، امام محمد بن یوسف بیکندی زیادہ معروف ہیں۔ اسی دوران انہوں نے امام عبداللہ بن مبارک امام وکیع بن جراح کی کتابوں کو ازبر کیا اور فقہ اہل الرائے پر پوری دسترس حاصل کر لی۔ طلبِ حدیث کی خاطر حجاز، بصرہ،بغداد شام، مصر، خراسان، مرو بلخ،ہرات،نیشا پور کا سفر کیا ۔ ان کے حفظ و ضبط اور معرفت حدیث کا چرچا ہونے لگا۔ امام بخاری ﷫ کے استاتذہ کرام بھی امام بخاری سے کسب فیض کرتے تھے ۔ آپ کے استاتذہ اور شیوخ کی تعداد کم وبیش ایک ہزار ہے۔ جن میں خیرون القرون کےاساطین علم کےاسمائے گرامی بھی آتے ہیں۔اور آپ کےتلامذہ کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ امام بخاری﷫ سے صحیح بخاری سماعت کرنےوالوں کی تعداد 90ہزار کےلگ بھگ تھی ۔امام بخاری کے علمی کارناموں میں سب سے بڑا کارنامہ صحیح بخاری کی تالیف ہے جس کے بارے میں علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قرآن کریم   کے بعد کتب ِحدیث میں صحیح ترین کتاب صحیح بخاری   ہے ۔ فن ِحدیث میں اس کتاب کی نظیر نہیں پائی جاتی آپ نے  سولہ سال کے طویل عرصہ میں 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔امام بخاری  کی سیر ت پر متعدد اہل علم نے   کتب تصنیف کی ہیں لیکن سب سے عمدہ کتاب   مولانا عبد السلام مبارکپوری کی تصنیف ’’سیرۃ البخاری ‘‘ ہے جو کہ کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہے۔ اس کتاب کا عربی ترجمہ ڈاکٹر عبد العلیم بستوی کےقلم سے جامعہ سلفیہ بنارس سے شائع ہوچکا ہے۔ زیر نظرکتاب ’’سیرت امام بخاری‘‘ کو تالیف کرنے کی سعادت شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمٰن چیمہ﷾نے حاصل کی بعد ازاں دارالسلام ،لاہور کے شعبہ تحقیق وتصنیف کےسکالرزنے بھی اس میں بیش قیمت اضافے کیے ہیں۔ شیخ الحدیث مولاناحافظ عبدالعزیز علوی  نے ترمیم واضافہ کے ساتھ ساتھ اس کی نظرثانی کی ہے اور اسی طرح محقق دوراں مولاناارشاد الحق اثری نےاس میں کچھ حک و اضافہ کےساتھ اس پر ایک جاندار مقدمہ تحریرکیا ہے جس سے اس کتاب اہمیت وافادیت دو چند ہوگئی ہے۔ اس کتاب میں امام بخاری  کےاساتذہ کی سیرت، اساتذہ کرام، ان کے طبقات، وسعت علمی ، عقائد ونظریات، صحیح بخاری میں احادیث کو نقل وجمع کرنے کی شرائط، دیگر تصانیف اور ان کےاسلوب اور متعلقات وشروح صحیح بخاری کےساتھ ساتھ امام بخاری کی فقیہانہ بصیرت، محدثانہ صلاحیت ،امام موصوف کے معاصرین اور تلامذہ وغیرہ کا تذکرہ   بڑے یگانہ اور جدید اسلوب میں پیش کیا گیا ہے۔
  • یہ سیرت انسائیکلو پیڈیا اس میں آپ عرب بلخصوس مکہ و مدینہ کی مستند تاریخ اور جغرافیہ ملاحظہ کریں گے، اہل عرب کی بود و باش اور ثقافت و تہذیب سے آشنا ہوں گے۔ عاد، ثمود، جرہم، طسم و جدیس جیسی مبغوض قوموں کی تباہی میں ہمارے لیے کیسے کیسے اسباق اور عبرتیں موجود ہیں؟ ان کا کامل مشاہدہ پائیں گے۔ ۔۔۔۔ اسی طرح آپ پر یہ حقیقت روشن ہوگی کے سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے کفر، شرک، اصنام اور اوہام کے کس قدر تاریک ظلمت زار میں کتنی دانائی اور دلیری سے اسلام کی فطری اور عالم گیر صداقت پیش کی۔

  • In this book, the events of the Prophet`s life, from the day he (Peace and Blessings of Allah be upon him) was born and even before that day for background information-until the day he (Peace and Blessings of Allah be upon him) died, have been recorded. Beyond enumerating the events of the Prophet`s life, lessons and morals from those events have been drawn to point out the significance of an event and the wisdom behind the Prophet`s actions or deeds, the Islamic ruling that is derived from a particular incident, and the impact that a given event should have on our character or choice of deeds is indicated.
  • کسی قوم، معاشرے یا فرد کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار اس کے عقائد و نظریات پر ہوتا ہےقطع نظر اس کے وہ عقائد و نظریات صحیح ہیں یا غلط، جو قوم اپنے نظریات و افکار میں پختہ ہو وہی کامیاب ہوتی ہے۔ اگر عقائد و نظریات مستحکم اور صحیح ہوں تو دین و دنیا دونوں کی کامیابی مقدر ٹھہرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام انبیائے کرام نے سب سے پہلے لوگوں کے عقائد و نظریات کی اصلاح کی اور اسلام نے بھی عقائد پر بہت زور دیا ہے اور پختہ عقائد کے بغیر اسلام کو نفاق کے درجے میں رکھاہے۔ عصرِ حاضر کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے علمائے ربانی نے اسلام کے بنیادی عقائد و نظریات کے حوالے سے بے شمار کتابیں تحریر کی ہیں۔ زیر نظر کتاب، عالم عرب کے معروف قلم کار فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن عبدلحمید اثری کی تالیف `الوجیز فی عقیدۃ السلف الصالح` کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں عقیدے کی تعریف و توضیح کے علاوہ 11 بنیادی اصول ذکر کیے گئے ہیں جن کا جاننا اہل اسلام کے لیے نہایت ضروری ہے۔ عقیدہ توحید اور ایمانیات کے مسائل کو صحابہ کرام ، تابعین اور محدثین کے فہم کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب سادہ اور عام فہم ہے جو علماء، طلبہ اور عوام الناس کے لیے یکساں مفید ہے۔
  • Attainment of the Happiness is a most valuable book on the topic of Islamic Monotheism. The very accomplished author of this book was very well-known Islamic scholar and jurist of the present day. Shaykh Salaah Al-Budair has chosen the ahadeeth in this book with due care and diligence. In order to compile thses ahadeeth, he has very meticulously studied almost the entire stock of hadith literature available. Like an expert gems dealer, Shaykh Salaah has chosen only those hadith for the purpose of explaining a particular topic, which were the most relevant in terms of their meanings and context. For this purpose, on some occasions a single hadith has been taken from many different books of Hadith.
  •   مذہب، ادب، سیاست، عدالت، تجارت، معاشرت اور علم و ہنر غرضیکہ ہر شعبہ زندگی میں ہمارے رہنما صرف حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آپ کی زندگی اللہ تعالیٰ کی والہانہ محبت، اطاعت اور استقامت کی نہایت ایمان پرور اور ولولہ انگیز داستان ہے۔ آپ ﷺ نے کفر و شرک اور ظلم و جفا کی صدیوں پرانی زندگی کا طلسم توڑا۔ رنگ، نسل ، ذات پات اور دولت و ثروت کے جھوٹے امتیازات ختم کیے۔ انسان کو اللہ رب العزت کی عظمت و کبریائی کا سبق سکھا کر اجتماعی زندگی کی بنیاد توحید ، اخوت اور مساوات پر رکھی اور بنی نوع انسان کو شرافت اور امن دوستی کی اعلیٰ اقدار کا پیغام دیا۔ آج کا انسان رحمت للعالمین ﷺ کی تعلیماتِ عالیہ کا پیاسا ہے۔ آیئے ہم خوب بھی اللہ کے آخری رسول حضرت محمد ﷺ کی پیروی کریں اور اپنے بچوں کو بھی اسوہ حسنہ کے اُجالوں سے رشناس کرائیں۔ یہ کتاب اسی مقصد سے شائع کی جا رہی ہے کہ ہمارے نونہال ابھی سے سیرتِ نبوی سے روشنی حاصل کریں اور دنیا کو معصیت، حرص و ہوس اور ظلم و جور کی آلودگی سے نجات دلانے کے لیے سرگرمِ عمل ہوجائیں۔ اس غایت سے ہر بچے اور بچی کے لیے اس کتاب کا مطالعہ آج کی اولین ضرورت ہے۔
  • Sale!

    Sb se Sachi Kahaani (Imported)

    Original price was: ₨ 1,350.Current price is: ₨ 999.

     مذہب، ادب، سیاست، عدالت، تجارت، معاشرت اور علم و ہنر غرضیکہ ہر شعبہ زندگی میں ہمارے رہنما صرف حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آپ کی زندگی اللہ تعالیٰ کی والہانہ محبت، اطاعت اور استقامت کی نہایت ایمان پرور اور ولولہ انگیز داستان ہے۔ آپ ﷺ نے کفر و شرک اور ظلم و جفا کی صدیوں پرانی زندگی کا طلسم توڑا۔ رنگ، نسل ، ذات پات اور دولت و ثروت کے جھوٹے امتیازات ختم کیے۔ انسان کو اللہ رب العزت کی عظمت و کبریائی کا سبق سکھا کر اجتماعی زندگی کی بنیاد توحید ، اخوت اور مساوات پر رکھی اور بنی نوع انسان کو شرافت اور امن دوستی کی اعلیٰ اقدار کا پیغام دیا۔ آج کا انسان رحمت للعالمین ﷺ کی تعلیماتِ عالیہ کا پیاسا ہے۔ آیئے ہم خوب بھی اللہ کے آخری رسول حضرت محمد ﷺ کی پیروی کریں اور اپنے بچوں کو بھی اسوہ حسنہ کے اُجالوں سے روشناس کرائیں۔ یہ کتاب اسی مقصد سے شائع کی جا رہی ہے کہ ہمارے نونہال ابھی سے سیرتِ نبوی سے روشنی حاصل کریں اور دنیا کو معصیت، حرص و ہوس اور ظلم و جور کی آلودگی سے نجات دلانے کے لیے سرگرمِ عمل ہوجائیں۔ اس غایت سے ہر بچے اور بچی کے لیے اس کتاب کا مطالعہ آج کی اولین ضرورت ہے

  •  ہماری زمین نظام ِ شمسی کا ایک ادنٰی حصہ ہے جبکہ سورج اس نظام کا مرکزی ستارہ ہے۔ یہ عظیم کُرہ روشنی اور گرمی کا بہت بڑا ما خذ ہے جس کے گرد زمین اور چان سمیت کئی سیارے محوِ گردش ہیں۔  سورج کی بناوٹ کے جو عناصر دریافت ہوئے ہیں، وہ سارے عناصر زمین پر بھی پائے جاتے ہیں۔ سورج میں بڑی تیز روشنی اور حرارت دینے والی گیسیں ہر آن جلتی رہتی ہیں۔ یہ اور اس قسم کے دوسرے اہم سائنسی حقائق اس کتاب میں وحی کی روشنی اور کہانی کے دلکش پیرائے میں بتائے گئے ہیں۔ یوں طلبہ کے لیے یہ کتاب ضروری سائنسی اور دینی معلومات کابڑا خوبصورت مجموعہ ہے۔ اس کے مطالعے سے دل و دماغ میں یہ اعلیٰ حقیقت پتھر پر لکیر کی طرح نقش ہوجاتی ہے کہ جس خالق و مالک نے سورج اور کائنات کے جملہ مظاہر پیدا کیے ہیں، وہ زبردست حکمت، قوت اور انتہائی اعلیٰ انتظامی قدرتوں کا مالک ہے۔ ذرے ذرے پر اسی کاقبضہ ہے۔ اس لیے ہمیں صرف اسی کی بندگی کرنی چاہیے۔
  •   `شکر` صفات حسنہ میں بہت اہمیت کا حامل ہے اور `توبہ` مغفرت کے وسائل میں ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ شکر اور توبہ کی یہ دونوں کیفیات کسی بندہ مومن کو میسر آجائیں تو یہ ایک خوش نصیبی اور سعادت کی بات ہے۔ ہمیں اور بہت سی تعلیمات کی طرح ان دوبنیادی اوامر کی طرف کتاب و سنت میں جابجا توجہ دلائی گئی ہے۔ محترم بشیر احمد لودھی ایک نووارد مصنف ہیں، مگر ان کے قلم میں ایسی پختگی ہے جس کا تقاضا کتاب و سنت میں موجود ہے۔ انھوں نے اس مختصر مگر جامع کتاب کے ہر باب میں صرف اور صرف کتاب و سنت ہی کے چشمہ صافی سے رجوع کیا ہے، جس کے باعث ان کی یہ کتاب ایک طالب ہدایت کے لیے نسخہ شفا ہے۔ دارالسلام کے شعبئہ تحقیق نے اس کتاب کے حوالوں کی تخریج کر کے اسے چار چاند لگا دیے ہیں۔ اب یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک سادہ اسلوب اور پختہ فکر کی نمائندگی کرتی ہے۔ عامتہ المسلمین انشا ءاللہ اس کے مطالعے کو اپنے لیے نافع اور مفید  محسوس کریں گے۔
  • کسی بھی انسان کی شخصیت ہی ہے جو کسی دوسرے انسان کو اُسکے اچھے یا بُرے ہونے کا پتا دیتی ہے۔ موجودہ دور میں شخصیت کو بطور مکمل موضوع کے پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے۔ زیرِ نظر کتاب میں شخصیت سازی کے ان تمام سنہرے اصولوں سے قاری کو روشناس کراگیا ہے جنہیں اپنا کر وہ نہ صرف اپنی شخصیت کو خوشگوار بنائیگا بلکہ اپنی زندگی میں بھی خوبصورت تبدیلی کا تجربہ کر پائیگا۔  اس کتاب کا مطالعہ تمام عمر کے مسلمانوں اور بلخصوص نوجوان مسلماموں کے لیے بے حد مفید ہے۔
  • کسی بھی عبادت کے لیے پاکیزگی کا ہونا جزوِ لا ینفک ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ خود بھی پاک ہیں چنانچہ مرد و زن کی روحانی پاکیزگی نظر کے جھکانے اور پردے میں مضمر ہے، جس کے بارے میں یہ کتابچہ مرتب کیا گیا ہے۔ اس میں قرآن و سنت کی روشنی میں عورت کی عزت و عفت کا ضامن اور فضیلت کا تاج و زیور ’پردہ‘ اور اس کی ذلت و خواری اور جہنم کے ایندھین کا موجب ’بے پردگی‘ کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ اس کتابچے کے مصنف قاری صہیب احمد میر محمدی ہیں جن کی متعدد کتب شائع ہو کر عوام و خواص سے داد وصول کر چکی ہیں۔ کتابچے کی فہرست پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اگرچہ یہ 136 صفحات پر مشتمل ایک کتابچہ ہے لیکن اس میں تمام وہ بنیادی ابحاث شامل ہیں جن کے لیے ایک ضخیم کتاب کی ضرورت ہوتی ہے۔ سب سے پہلے پردے کے عمومی فضائل رقم کیے گئے ہیں اس کے بعد پردے کی فرضیت پر قرآنی اور احادیث نبوی سے دلائل، پردے کی قسمیں اور پردے کی شروط بیان کی گئی ہیں۔ بعض لوگ چہرے کو پردے میں شامل نہیں کرتے کچھ اہل حدیث علما بھی چہرے کے پردے کواستحباب کا درجہ دیتے ہیں قاری صہیب صاحب نے ایسے تمام دلائل کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیا ہے اور بڑے اچھے انداز میں ان کا رد کیا ہے۔ اس موضوع پر پہلے بھی اردو میں کتب موجود ہیں یہ کتابچہ ان میں ایک اور اضافہ ہے۔

Title

Go to Top