خواتین کے متعلقہ احکام و مسائل کو جس تفصیل پر وضاحت اور جامعیت کے ساتھ قرآن و حدیث میں بیان کیاگیا ہے یہ بھی ہمارے دین کی امتیازی خوبی ہےجس میں کوئی دوسرا مذہب اس کا ہمسری کا دعوی نہیں کرسکتا۔دین اسلام کی کمال و جامعیت کی علامت ہے کہ اس میں شعبہ ہائے حیات سے منسلک افراد کی رشدوہدایت کے لیے واضح اور مفصل تعلیمات موجود ہیں جن سے ہر شخص اپنے مسائل و ضروریات کی بابت بآسانی آگاہی حاصل کرسکتا ہے۔
-
قیامت کےمردوں کی طرح عورتیں بھی اپنے اعمال کے لیے جوابدہ ہوں گی اس لیے ہماری محترم ماوًں،بہنوں،اوربیٹیوں کو زندگی کےہرمرحلے میں اپنی ضروریات اور معاملات کی انجام دہی کے لیےدینی احکام اور ہدایات سے پوری طرح باخبر رہنا چاہیے یہ کتاب آگہی کا مقصد بخوبی پورا کرتی ہےاسی لیے یہ زیادہ توجہ اور تکریم کی مستحق ہے مختلف گھرانوں کی خواتین کوخانگی زندگی کےنشیب وفرازمیں بہت سی الجھنیں اورمسائل پیش آئے۔انھوں نےرہنمائی حاصل کرنے کے لیے سعودی عرب کے اجل علمائے کرام سے رجوع کیا تو ان رجال کبارنے قرآن و سنت کی روشنی میں فتوے جاری فرمائے – یہ کتاب انھی بیش بہا فتووں کا مجموعہ ہے اس میں ان تمام مشکلات اور مسائل کادینی حل آسان الفاظ میں بتا دیا گیا ہے جو ہماری محترم خواتین کو وقتاً فوقتاً پیش آتے رہتے ہیں اکثر خواتین حیا کے بوجھ سے دبی رہتی ہیں –دل کی بات زبان پر نہین لاتی –اس طرح ان کہے سوالات اور نازک مسائل ان کے دل ودماغ میں چکر کاٹتے رہتے ہیں ایسی خواتین اس کتاب کاخاص طور پر مطالعہ فرمائیں-انشاءاللہ! انھیں قرآن وحدیث کی روشنی میں اپنے تمام مسائل کا تسلی بخش حل اور ہر سوال کا شافی جواب مل جائے گا -
جادو اور جنات سے تعلق رکھنے والی بیماریوں کے علاج کےلیے کتاب وسنت کے بیان کردہ طریقوں سے ہٹ کر بے شمار لوگ شیطانی اور طلسماتی کرشموں کے ذریعے ایسے مریضوں کاعلاج کرتے نظر آتے ہیں جن کی اکثریت تو محض وہم وخیال کے زیر اثر خود کو مریض سمجھتی ہے ۔جادوکا موضوع ان اہم موضوعات میں سے ہے جن کا بحث وتحقیق اور تصنیف وتالیف کے ذریعے تعاقب کرنا علماء کےلیے ضروری ہے کیونکہ جادو عملی طور پر ہمارے معاشروں میں بھر پور انداز سے موجود ہے اور جادوگرچند روپوں کے بدلے دن رات فساد پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں جنہیں وہ کمزور ایمان والے اور ان کینہ پرور لوگوں سے وصو ل کرتے ہیں جو اپنے مسلمان بھائیوں سے بغض رکھتے ہیں او رانہیں جادو کے عذاب میں مبتلا دیکھ کر خوشی محسوس کرتےہیں
-
آج ساری دنیا جس بے قراری سے امن و سلامتی کا راستہ ڈھونڈ رہی ہے، اس سے کوئی بے خبر نہیں۔ ملاال یہ ہے کہ جو افکار و اعمال انسان کے لیے ذلت اور ہلاکت کا سبب ہیں، آج کا ترقی یافتہ انسان انھی موہوم اور مسموم افکار و اعمال میں اپنے زخموں کا مرہم ٹٹول رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ انسان کے دکھوں میں آئے دن ہولناک اور ہلاکت بار اضافہ ہو رہا ہے۔ اس عالم گیر المیے کی اصل وجہ کیا ہے؟ یہ بھید جاننے کے لیے زیرِ نظر کتاب پڑھیے۔ اس کتاب کے مصنف فضیلتہ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز ؒ عہد حاضر کے سب سے بڑے سکالر تھے، ان کی بین نگاہوں نے انسان کے آلام و مصائب کے اصل سبب کا کھوج لگایا اور صاف صاف بتا دیا کہ جب تک انسان اپنے من گھڑت افکار و عقائد کی دلدل میں پھنسا رہے گا امن و سلامتی کا راستہ کبھی نا پا سکے گا۔ امن و سلامتی اور فلاح و کامیابی کا واحد طریقہ یہ ہے کہ جس قادر مطلق نے یہ دنیا بنائی ہے ہم اُسی کی بتائی ہوئی صراط مستقیم پر چل پڑیں۔ صراطِ مستقیم کیا ہے؟ یہ کتاب اسی سوال کا بڑا مستند ، منور، مفصل اور مدلل جواب ہے۔ اسے مرکز توجہات بنائیے۔ خود بھی پڑھیے اور عزیز و اقارب کو بھی پڑھنے کی دعوت دیجیے۔